خامہ انگشت بدنداں- اغراض و مقاصد

0
مصنف:
موضوع:
 - 

سرسری تُم جہان سے گزرے
ورنہ ہر جا، جہانِ دیگر تھا

انتہائی صداقت کے ساتھ دیکھا جائے تو بڑی گہرائی کا حامل یہ شعر اپنے گیارہ الفاظ میں مکمل کائنات کے حقیقی شعور کو اپنے آپ میں سمیٹ دیتا ہے۔ انسانی عقل اس کائنات کی حدود کا احاطہ کرنے سے تو قاصر ہے ہی، ساتھ ہی وہ اس کائنات کے ہر ہر ذرے میں چھپی ایک مکمل کائنات کی باریکیوں کو لے کر بھی اس قدر پریشان ہے کہ اس صورتحال کو بیان کرنا ممکن نہیں کہ ابھی تو اجمال سے نکلنا ہی ممکن نہیں کہ تفاصیل کا درست ادراک ممکن ہو سکے۔
انسان نے جیسے جیسے علمی اور عقلی ترقی کی ہے ویسے ہی اس کے پاس سوالات کے انبار بھی ہر دور میں لگے رہے ہیں۔ اور جہاں ایک سوال کا جواب ملا ہے تو اس جواب سے اگلے مزید سوالات نے جنم لیا۔ ان سوالات کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انسان وہ واحد مخلوق ہے جس کے پاس عقل بھی ہے اور اس پر اختیار (free will) بھی موجود ہے۔ جب انسان نے سوچنا شروع کیا، اپنی عقل کے ہتھیار کو چلانے کی کوششوں میں لگا تو اس نے سب سے پہلے کائنات اور اپنی ذات کے ماخذ کی توجیہات پر سوال اٹھانا شروع کیے۔ اس کا موضوع اب وہ نادیدہ ہستی تھی جس کا بحرِ جود و کرم ہر آن موجزن رہتا۔ لیکن انسان اس معاملے میں عقلی موشگافیوں میں اس قدر آگے نکل گیا کہ اس کی محدود عقل نے اسے سرِ راہ تنہا اسے ٹھوکریں کھانے کو چھوڑ دیا۔ یہ تو الہامی کتابوں کا احسانِ عظیم ہوا کہ انسان کو اس گمراہی کی دلدل سے نکال کر اسے راہ دکھلائی۔ اس عظیم الوسعت کائنات میں ڈوبتے ہوئے انسان کو سہارا دیا اور تھکے ہارے انسان کو انگلی پکڑا کر اشارہ کیا کہ" یہ راستہ ہے، اسی طرف چلے جاؤ، کامیاب ہوجاؤ گے" ورنہ معلوم نہیں انسان کو دنیا میں رہتے ہوئے کتنی صدیاں بیت جاتیں اور وہ اپنی زندگی کا مقصد نہ سمجھ پاتا۔
اس کےبعد جب انسان کی عقل الہامی مذاہب کے زیرِ سایہ ہی ترقی کر چکی، اس کا عقلی ارتقا پایۂ کمال کو پہنچا ہے تو اس نے اپنی اس ترقی اور اپنے علوم کے گھمنڈ میں آ کر علومِ حقیقی کے ماخذات جو اسے سہارے کے طور پر میسر آئے تھے انہیں چھوڑ دیا۔ اس کے ذہن میں اب یہ بات آگئی کہ اسے مذہب کی لاٹھی کی ضرورت نہیں۔ وہ بغیر اس لاٹھی کے چلنا شروع کرچکا ہے۔ لیکن اس تگ دو میں اس نے اپنا حقیقی مقصد چھوڑ کر مادی کائنات کے رنگارنگ اور دلفریب مظاہر کو اپنا مقصد بنا لیا۔ اس ضمن میں اس نے ازلی، ابدی اور سرمدی حقیقت جس کی اس نے تلاش شروع کی تھی اسی کا انکار کرنا شروع کردیا۔ اور وجہ صرف یہ ہوئی کہ اس وقت اسے کائنات کا علم اس فراخ دلی سے حاصل نہیں تھا تو۔ آج حاصل ہے۔ لیکن اس جنگ و جدل میں وہ لوگ جن کا مقصد اب بھی وہی ہے جو کہ تھا، ان لوگوں کے دماغ میں اہلِ ظاہر نے وساوس ڈالنا شروع کیے۔ اہلِ ظاہر خود تو عقل پرستی کی دلدل میں پھنسے ہوئے تھے ہی، لیکن انہوں نے کم عقل اور کم علم لوگوں کو بھی اس ظاہر کی نحوست میں مبتلا کرکے الہامی مذاہب کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی سازشیں شروع کر دیں۔ بس پھر یہ ہوا کہ مذہب پر اعتماد کرنے والے کے ذہن میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔ لیکن عامی ہونے کی وجہ سے اس کے پاس ان جدید باتوں کا کوئی جواب نہیں تھا۔
اب مرحلہ یہ ہے کہ جب کہ انسان اب بہت شعور دار اور خرد مند ہوگیا ہے تو ان شکوک و شبہات کی وجہ سے اس کا دماغ مذہب کے خلاف سوالات اٹھانا شروع ہوگیا ہے۔ کمزور اور غیر معقول مذاہب کا دھیرے دھیرے دنیا سے خاتمہ ہو رہا ہے۔ اب صرف دو ہی صورتیں ہیں۔ اور وہ یہ ہیں کہ دنیا میں یا تو عقل پرست اور اہلِ ظاہر رہ جائیں گے یا پھر عقل مند اور دین فطرت کے پیروکار جو اس کھوکھلی مادیت کے دھارے سے ابلتے جھاگ کے سامنے چٹان کا کردار ادا کریں گے۔ واضح رہے کہ عقل پرست وہ ہیں جو صرف ظاہر کو دیکھ کر اس پر ایمان لاتے ہیں۔ در حقیقت وہ ایسے جاہل ہیں جو حقیقت کا انکار کرکے اپنی تنگ ذہنی کا ثبوت دیتے ہیں۔ جن کے نزدیک مادیت بصیرت سے زیادہ ہے۔ لیکن حقیقی عقل مند وہ ہیں جو مادیت کے اثر سے باہر نفس الامر کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

ان اہلیانِ ظاہر یا اہلیانِ باطل کے شکوک کو رفع کرنے کی خاطر، ان کے رد کے لیے ہم بطور ایک تحریک کے منظر پر آئے ہیں۔ ہمارا مقصد باطل کے شکوک و شبہات کے خلاف کام کرنا، ان کے دندان شکن جوابات دینا، ان کا عقلی طور نطقہ بند کرنا، اعلائے کلمۃ اللہ اور کفر و الحاد کی حد بندی ہے۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ انسان کی درست رہنمائی اور اس کے تجسس کا مداوا صرف اور صرف الہامی کلام یعنی قران و سنت کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں جس کے ذریعے اس کے تجسس، اس کے باطنی انتشار کی دائمی تسکین ممکن ہو۔ ہماری بنیاد اسلام ہے۔ ہم اسلام کے نام پر ظاہر ہوئے ہیں۔ اور سوشل میڈیا پر اسلام کی طرف سے کفر و الحاد کے بالمقابل بطورِ نمائندہ کے کام کرنا ہمارا عزم ہے۔ اس کے علاوہ ہمارا کوئی تعارف یا کوئی پہچان نہیں۔

انتظامیہ: خامہ انگشت بدنداں
ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


Back to Top